جو اپنوں کو کبھی بھولتے نہیں

کیا تم وہی ہو جس کے لیے بات ہوئی تھی ۔ دھیمی سی آواز میں جی میں وہی ہوں ۔ تو ٹھیک ہے میرے بیٹے کا نام سمیر ہے اور تمہارا نام کیا ہے میرا نام حنا ہے کیا کرتی ہو تم جی میں میٹرک میں ہوں ۔میرا بیٹا دو سال کا ہے کیا تم اس کی ٹھیک سے دیکھ بھال کر پاؤ گی ۔ جی بلکل ٹھیک ہے تم کل سے آجاؤ ایک ہفتہ تم کام کرو گی پھر ہم تہ کریں گے کے تمہارا کیا کرنا ہے ٹھیک ہے کہ کر وہ وہاں سے چلی گئی ۔

اگلا دن

بیٹا یہ تمہاری نئی بےبی سٹر ہے تو آج سے یہ تمہارا خیال رکھیں گی ۔ اور ہاں تم مجھے کوئی شکایت کا موقع نہیں دینا میں اپنے بزنس کے سلسلے میں اکثر ملک سے باہر ہوتی ہنوں تو خیال رکھنا ۔ یہ کہ کر انہوں نے اس کو پورا گھر وزٹ کرایا اور اپنے بیٹے کے بارے میں بتایا ۔

تو کیسی لگی بیٹا آپ کو آپ کی نئی نےنی اچھی ہیں امی تو کیا میں اسے رکھلوں جی امی.

حنا سمیر کی اچھے سے دیکھ بھال کرنے لگی اور اپنے کام کو اچھے سے کرنے لگی وقت گزرتا رہا ۔ حنا نے میٹرک کے بعد اپنی پڑھائی اگے جاری نہیں رکھی ۔

سمیر ابھ بارہ سال کا ہوچکا تھا ۔ اسے ایسا لگنے لگا کے جب حنا اس کا خیال رکھتی ہے تو وہ اس سے محبت کرتی ہے پر وہ تو صرف اپنا کام کر رہی تھی ۔ ابھ وہ بات بات میں اس سے محبت کا اظہار کرنے لگا ۔ حنا اچھے سے سمجھ گئی کہ سمیر کے دماغ میں کیا چل رہا ہے ۔ اس نے ابھ اس کی دوستی اس کے عمر کے لڑکے لڑکیوں سے کرانے کی کوشش شروع کی وہ اسے پارک لے کرجاتی ۔ تاکہ اسے نئے دوست مل سکیں ۔

اس کے ساتھ ایک لڑکی ٹیوشن میں پڑتی تھی تو حنا نے سوچا کے ان دونوں کی دوستی کرا دی جائے تو اس نے ان کی دوستی کرادی ۔ ان کی دوستی سے اس کو تھوڑا سکون ملا ۔

پر یہ سکون زیادہ دیر نہیں چلنے والا تھا ۔ کچھ دنوں بعد حنا نے دیکھا کے سمیر کی نئی دوست جس کا نام آمنہ تھا ۔وہ دونوں کمرے میں تھے اور آمنہ اسے پنسل سے کمر پر مار رہی تھی ۔اس نے اس چیز کا زیادہ نوٹس نہیں لیا اور اس معملے کو چھوڑ دیا پر حنا نے اسے ایک دو بار پھر ایسا ہی کرتے ہی دیکھا ۔ ایک دن رات کو وہ سورہا تھا تو اس نے دیکھا کہ اس کی قمر پر پوری طرح سے لال ہے اور نشانات سے بھری ہوئی تھی

اگلے دن اس نے اس سے پوچھا کے تمہاری قمر پر یہ نشان کیسے اے پہلے تو اس نے پرانے پرانے کہ کر جان چھڑانا چاہی پر بعد میں حنا کے زور دینے پر اس نے کہا کے جو میری دوست ہے آمنہ وہ کافی عجیب لڑکی ہے بنا بات کے مجھے مارتی ہے اور بات بات پر اس کو گھسا آجاتا ہے تو تم نے یہ سب مجھ کو کیوں نہیں بتایا ۔ اس لیے کے آپ نے ہماری دوستی کرائی تھی اور آپ کے لیے کچھ بھی ٹھیک ہے آج کے بعد تم اس سے دور رہو گے یہ کہ کر اس نے اس کو گلے لگایا اور چلی گئی ۔

کئی سال بعد

کانووکیشن حال سے نکلتے ہوۓ اپنی امی کے گلے لگتے ہوئے ۔ کسی کی کمی کو محسوس کر راہا تھا اور وہ تھی حنا جب وہ آٹھویں جماعت میں تھا تو حنا اچانک سے ان سب کو چھوڑ کر جاچکی تھی ۔ اور سمیر اسے کئی سالوں سے ڈھونڈ رہا تھا ۔

کچھ دنوں بعد وہ کسی فلاحی ادارے میں گیا کسی کام سے تو وہاں پر بیٹھے بیٹھے اسے خیال آیا کہ میں کئی بار میں یہاں آیا ہنوں پر کبھی اسے ان اداروں میں نہیں ڈھونڈا حالانکہ وہ ان میں سے کسی ادارے کی طرف سے ہی ای تھی ۔

جتنی معلومات اس کے پاس تھی وہ سب جمع کر کے نکلا اسے ڈھونڈنے کئی سارے ادارے گھومنے کے بعد اسے معلوم ہوا کے حنا کسی گاؤں کے فلاحی ادارے میں ہے وہ اس گاؤں کے فلاحی ادارے میں گیا تو پتہ چلا کے وہ کسی اسکول میں پڑھاتی ہے ۔

اس نے ایک منظر دیکھا جسے دیکھ کر اس کی انکھوں کو یقین نہیں آرہا تھا۔ جو کبھی اس کی دیکھ بھال میں بھاگ بھاگ کر کام کیا کرتی تھی آج ایک وھیل چیئر پر تھی اور چھوٹے بچوں کو پڑھا رہی تھی کلاس ختم ہونے کے بعد اس نے ادب سے سلام کیا اور حال چال پوچھا آگے سے بھی سلام کا جواب آیا ۔حنا نے کہا کیا میں تمہیں جانتی ہنوں ۔ اس نے بڑے اطمینان سے جواب دیا جی ۔ تو کون ہو تم ابھی نہیں بتا سکتا پر بہت جلد جان جائیں گی ۔

اسکول سے چھٹی کے بعد وہ گھر گئے ۔ گھر کے حالات کافی خراب تھے گھر میں کھانے کو جو بھی تھا وہ اس نے سمیر کے سامنے رکھ دیا۔ سمیر نے کھانا کھاتے ہوئے اس سے پوچھا کے یہ حالات آپ کے کیسے ہو ئے میں نے سنا ہے آپ پہلے بلکل ٹھیک تھی ۔ ہاں میں آپ کو اپنے بارے میں ضرور بتاتی لیکن مجھے معلوم نہیں ہے آپ کون ہو ۔

تو اس نے کہا کے میں ایسے ادارے کی طرف سے آیا ہنوں جو ان کی مدد کرتی ہیں جن عرتوں کے ساتھ ماضی میں کچھ برا ہوا ہوتا ہے تو آپ بتائیں اپنے بارے میں ۔

میں ایک گھر میں ایک لڑکے کی دیکھ بھال کرتی تھی میں نے دس سال اس کی دیکھ بھال کی لیکن ایک دن اس نے کچھ ایسا کیا کے میں نے اسے گلے لگا لیا تو کہیں سے اس کی امی یہ دیکھ رہی تھی تو اس کے بعد کئی بار مافی مانگ نے کے بعد بھی انھوں نے مجھے بہت مارا اور مار مار کر میرے پاؤں اور قمر تڑوادی تو اس کے بعد سے یہ حالات ہیں ۔

یہ سنتے ہی جیسے اس کے پاؤں سے زمین نکل گئی ۔ اس نے اسی وقت اسے وہاں سے لے کر اپنے گھر آیا۔ اور امی سے کہا یہ آج کے بعد سے ہمارے ساتھ رہے گی ۔ اور اگر اسے کچھ ہوا تو میں یہ گھر ہمیںشہ کے لیے چھوڑ کر چلا جاؤں گا اور ہاں حنا کو مخاتب کر کے کہا تم آج کے بعد یہاں پر ہی رھو گی اور وہ یہ سب دیکھ کر سمجھ چکی تھی کے سب کون ہیں۔

Copy Right by jawad alam

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: